پٹنہ،24؍دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بہار میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)اب کسانوں اور تین نئے زرعی قوانین پر جارحانہ موقف اختیار کررہی ہے۔ بدھ کے روز اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے وزیراعلیٰ نتیش کمار اور مرکزی حکومت سے کسانوں کی مایوس کن حالت کو دیکھتے ہوئے فصلوں کی کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) کو قانونی حیثیت دینے کا باضابطہ طور پر مطالبہ کیا۔
تیجسوی یادو نے بدھ کے روز کسان رہنما چودھری چرن سنگھ کے یوم پیدائش کے موقع پر پارٹی کے دفتر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہاہے کہ بہارمیں منڈی کے خاتمے کے نتائج سب ہی دیکھ سکتے ہیں کیونکہ مرکزی حکومت کے اپنے اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بہار کسانوں کی آمدنی ملک میں سب سے کم ہے۔
تیجسوی یادونے کہاہے کہ نتیش کمار کو خود بتانا چاہیے کہ اگر ان کا فیصلہ صحیح تھا تو کسان اتنے پریشان کیوں ہیں۔اس پریس کانفرنس میں سرکاری اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے تیجسوی یادونے پوچھاہے کہ ایک سال میں دھان کی خریداری کا ہدف کیوں پورا نہیں کیا گیا؟ اس کے علاوہ ، کیا یہ سچ نہیں ہے کہ بہارمیں لاکھوں کسان اپنے دھان یا گندم کو بیچنے پر مجبور ہیں۔
تین نئے زرعی بلوں پر تیجسوی یادونے کہاہے کہ اگر اس پر عمل درآمد ہوتا ہے تو بہار کا کسان جو آج مزدور ہے بھکاری بن جائے گا۔اگلے ہفتے بائیں بازو کی جماعتوں کے راج بھون مارچ کی حمایت کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہاہے کہ جو بھی پروگرام ہوتا ہے یا کسانوں کے معاملے پر ہوتا ہے ، ان کی پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے گاؤں کے لوگوں میں بل کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کے لیے اپنی پارٹی کی طرف سے ایک پرچہ بھی جاری کیا۔